حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہر نفسیات حجۃ الاسلام والمسلمین رضا یوسف زادہ نے ایک 31 سالہ نوجوان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ملازمت، سماجی حیثیت اور مالی اعتبار سے اچھی پوزیشن میں ہے، لیکن ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں، معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی طلاقوں کے اعداد و شمار کے باعث شادی سے خوف محسوس کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسا خوف نہ تو غیرمعمولی ہے اور نہ ہی غیر منطقی۔ آج بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان، خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، اسی قسم کے خدشات کا شکار ہیں۔ نفسیات کی اصطلاح میں اسے "گامافوبیا" یعنی شادی اور ازدواجی ذمہ داریوں کا خوف کہا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر نوجوان سوشل میڈیا، فلموں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے ناکام شادیوں، خیانت اور طلاق کی خبروں کی مسلسل یلغار کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے ذہن میں ازدواجی زندگی کا منفی تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی سوچ کا زاویہ تبدیل کرے۔
حجۃ الاسلام یوسف زادہ کے مطابق، نوجوانوں کو صرف "مناسب شریکِ حیات تلاش کرنے" کی فکر میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ خود کو "مناسب شریکِ حیات" بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انسان کو یہ سوچنے کے بجائے کہ "کیا میرا شریکِ حیات مجھے خوش رکھے گا؟" یہ سوچنا چاہیے کہ "کیا میرا شریکِ حیات میرے ساتھ زندگی گزار کر خوش اور مطمئن ہوگا؟"۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال کی بھی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہر خبر، ہر ویڈیو اور ہر صفحے کو فالو کرنا ضروری نہیں۔ بہت سی منفی کہانیاں صرف توجہ حاصل کرنے اور فالوورز بڑھانے کے لیے پیش کی جاتی ہیں، جن کا حقیقی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔
آخر میں انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان جن لوگوں اور افکار کی پیروی کرتا ہے، رفتہ رفتہ انہی سے متاثر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا مثبت سوچ، متوازن میڈیا استعمال اور اپنی شخصیت کی تعمیر کے ذریعے شادی کے خوف پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ